واقعہ کربلا قسط اول
واقعہ کربلا قسط اول کربلا کہانی (قسط اول) تصنیف: وقار شیرازی یہ چھپن ہجری کا سال ہے۔ رسول اللہ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وفات کو لگ بھگ پینتالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اسلامی ریاست کی حدیں بُخارا ، خراسان ، بازنطین اور روم کی طرف جزیرۂِ رودوس تک پھیل چکی ہیں۔ افریقہ زیرِ نگیں آ چکا ہے اور پوری دُنیا سے مشرق و مغرب کے اموال دمشق پہنچ رہے ہیں۔ دمشق ایک خوشگوار موسم والا ، خوشحال شہر ہے جہاں رؤسائے سلطنت کی سکونت ہے۔ مصر ، افریقہ ، یمن ، ہند ، خراسان اور بازنطینی علاقوں سے خراج کے ساتھ ساتھ مقامی اشیاء مثلاً شہد ، خوشبویات ، مصالحہ جات ،عمارتی لکڑی ، کپڑا ، قالین ، خشک میوے ، پھل ، تیل ، قندیلیں ، جواہرات ، گھوڑے ، مویشی ، غلے ، برتن اور دستکاریوں کے سامان کی ایسی بہتات ہے جس نے دمشق کے کسی گھر کو غریب نہیں چھوڑا۔ دمشق ، شام اور رومی علاقوں کی آبادی میں عیسائی اور یہودی آبادی کا تناسب زیادہ ہے۔ یہ لوگ سلطنت کو جزیہ دیتے ہیں اور اپنے عقائد و رسومات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ دمشق کے امور سلطنت میں بازنطینی سلطنت کے عمَّال کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور کئی اہم ا...