اشاعتیں

جولائی, 2023 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

واقعہ کربلا قسط اول

تصویر
  واقعہ کربلا قسط اول کربلا کہانی (قسط اول) تصنیف: وقار شیرازی  یہ چھپن ہجری کا سال ہے۔ رسول اللہ (صل اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی وفات کو لگ بھگ پینتالیس سال کا عرصہ بیت چکا ہے۔ اسلامی ریاست کی حدیں بُخارا ، خراسان ، بازنطین اور روم کی طرف جزیرۂِ رودوس تک پھیل چکی ہیں۔ افریقہ زیرِ نگیں آ چکا ہے اور پوری دُنیا سے مشرق و مغرب کے اموال دمشق پہنچ رہے ہیں۔  دمشق ایک خوشگوار موسم والا ، خوشحال شہر ہے جہاں رؤسائے سلطنت کی سکونت ہے۔ مصر ، افریقہ ، یمن ، ہند ، خراسان اور بازنطینی علاقوں سے خراج کے ساتھ ساتھ مقامی اشیاء مثلاً شہد ، خوشبویات ، مصالحہ جات ،عمارتی لکڑی ، کپڑا ، قالین ، خشک میوے ، پھل ، تیل ، قندیلیں ، جواہرات ، گھوڑے ، مویشی ، غلے ، برتن اور دستکاریوں کے سامان کی ایسی بہتات ہے جس نے دمشق کے کسی گھر کو غریب نہیں چھوڑا۔  دمشق ، شام اور رومی علاقوں کی آبادی میں عیسائی اور یہودی آبادی کا تناسب زیادہ ہے۔ یہ لوگ سلطنت کو جزیہ دیتے ہیں اور اپنے عقائد و رسومات کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔  دمشق کے امور سلطنت میں بازنطینی سلطنت کے عمَّال کا اثر و رسوخ زیادہ ہے اور کئی اہم ا...

اہل بیت کی محب ماں کے چار بیٹے اورکربلا

تصویر
واقعہ کربلا اور ایک ماں کی تربیت "حضرت عباس علیہ السلام " سیدہ فاطمہ الزہرہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی وفات کے بعد مولا علی نے ان کی وصیت کے مطابق دوسری شادی کی ۔ حسن حسین زینب ابھی چھوٹے تھے ۔ آپ نے سیدنا عقیل کو رشتہ دیکھنے کے لئیے کہا تو کلبسی بنو قلاب کے قبیلے کا انتخاب ہوا ۔ سیدنا علی کی خواہش تھی کہ کوئی ایسی خاتون ہو جو شجاعت سخاوت اور ایثار کی خصوصیات سے مالا مال ہو ۔ بنو قلاب کی خاتون فاطمہ بنت حزم کے گھر رشتہ بھیجا تو سردار حزم اپنی بیوی کے پاس گئے اور پوچھا کہ سیدنا علی کا بیٹی فاطمہ کے لئیے رشتہ آیا ہے کیا آپ نے اپنی بیٹی کی ایسی تربیت کی ہے جو نبی کے خاندان میں بیاہی جا سکے ۔ رشتہ قبول ہوتا یے تو فاطمہ بنت حزم( سیدہ ام البنین) سیدنا علی کے گھر جاتی ہیں تو سیدنا حسن حسین اور فاطمہ کو گلے لگا لیتی ہیں۔ سیدنا علی سے درخواست کرتی ہیں کہ ان بچوں کے سامنے آپ مجھے کچھی فاطمہ مت کہئیے گا انہیں اس سے ان کی ماں یاد آ جائے گی ۔ میں اس گھر میں ان کی ماں بن کر نہیں آئی بلکہ کنیز بن کر آئی ہوں۔ میرا یہ مقام نہیں کہ ان کی ماں کی جگہ لے سکوں ۔  اس کے بعد آپ نے انہیں بیٹا نہیں کہا ...